بنگلور 15 اگست (پریس ریلیز) ویلفیر پارٹی آف انڈیا کرناٹک نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا میں مبتلا ہو کر جان گوانے والے فرنٹ لا ئن ورکرس کو فوری معاوضہ جاری کرے۔
پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حُسین نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے کورونا سے جان گوانے والے فرنٹ لائن ورکرس کے لئے بڑے بڑے معاوضہ کا اعلان کیا تھامگرافسوس کے آج تک مرحومین کے خاندان کو کوئی معاوضہ نہیں مل پایا ہے۔پارٹی کی جانب سے آر ٹی آئی(RTI)) کے ذریعہ مختلف میدانوں میں کام کرنے والے فرنٹ لائن ورکرس کے متعلق جانکاری حاصل کی گئی ہے جس کے مطابق KSRTCمیں کورونا کے پہلے دور میں 39ملازمین اور کرونا کے دوسرے دور میں 57ملازمین کی موت ہوئی ہے،اس طرح کُل96ملازمین فوت ہوئے ہیں،لیکن حکومت کی جانب سے اب تک صرف سات لوگوں کے خاندانوں کو ہی معاوضہ دیا گیا ہے۔اسی طرح NWKRTC میں کورونا کے پہلے دور میں 32اور دوسرے دور میں 48ملازمین کی موت ہوئی ہے،کُل80ملازمین فوت ہوئے ہیں،لیکن حکومت کی جانب سے ایک بھی خاندان کو معاوضہ اب تک نہیں دیا گیا ہے۔جبکہ سابق وزیر برائے ٹراسپورٹ لکشمن سودی نے کورونا سے مرنے والے ملازمین کے لئے 30لاکھ روپئے معاوضہ کا اعلان کیا تھا۔ لیکن کورونا سے مرنے والے 176ملازمین میں سے اب تک صرف سات ملازمین کے خاندان والوں کو معاوضہ دیا گیا ہے وہ بھی پورا نہیں دیا گیا ہے۔
اڈوکیٹ طاہر حُسین نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ان ملازمین کے ساتھ دھوکہ کیا ہے،حکومت اب تک صرف اشتہارات کے ذریعہ ہی شہرت حاصل کرنے میں لگی ہے اور پریشان حال ملازمین کے تعلق سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری ان ملازمین کے خاندان والوں کو معاوضہ کی رقم جاری کرے بصورتِ دیگر ویلفیر پارٹی کورٹ میں مقدمہ دائر کرے گی۔
بارش سے متاثرہ لوگوں کو امداد جاری کرنے کا بھی مطالبہ:
ریاست میں پچھلے ایک ماہ سے ہوئی مسلسل بارش کی وجہ سے تقریباً 13اضلاع متاثر ہیں،سینکٹروں مکانات ڈھے گئے ہیں،ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں،ہزاروں ایکر زمین سیلاب کی نظر ہو چکی ہے۔حکومت سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 2.03لاکھ ہیکٹر کی فصل برباد ہوئی ہے،1228مکان پوری طرح ڈھے گئے ہیں،9310مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ویلفیر پارٹی کی جانب سے بارش سے متاثرہ بلگام ضلع اور کاروار ضلع کا دورا کیا گیا،اس دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ ابھی تک بارش سے متاثر کئی لوگوں کو حکومت کی جانب سے کوئی راحت نہیں پہنچی ہے۔جب کے حکومت نے اعلان کیا تھا کہ بارش سے متاثرہ لوگوں کو فوری طور پر دس ہزار روپئے جاری کئے جائیں گے۔
وزیرِ علیٰ بسواراج بومائی نے اعلان کیا تھا کہ،بارش کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھر والوں کو 5لاکھ روپئے،آدھا نقصان ہونے والوں کے لئے3لاکھ روپئے اور تھوڑا بہت نقصان ہونے والوں کے لئے 50ہزار روپئے،اسی طرح پچھلے سال بارش سے متاثرہ زیر تعمیر مکانات کے لئے تعمیر کا بقیہ خرچ بھی ادا کیا جائے گا۔مگراعلان کے پندرہ دن ہونے کے باوجود ان لوگوں کو ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔ویلفیر پارٹی ریا ستی حکومت سے مطالبہ کر تی ہے کہ وہ فوری ان پریشان حال لوگوں کی امداد کرے،اعلان شدہ راحت کی رقم متاثرہ لوگوں تک فوری پہنچائی جائے۔
بجلی آکٹ2003میں ترمیم کی مخالفت:
مرکزی حکومت پچھلے دو سالوں سے پارلیمنٹ میں بجلی آکٹ2003میں ترمیم کو منظور کروانے کی پُر زور کوشش کر رہی ہے،امسال بھی مانسون سیشن کے دوران پاس کروانے کے لئے اس کو لیسٹ میں شامل کیا گیا تھا،ویلفیر پارٹی، حکومت کے اس اقدام کی پُرزور مخالفت کر تی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس عوام دشمن بل کو منظور کروانے کی کوشش نہ کرے۔پارٹی کا ماننا ہے کہ حکومت کی مجوزہ اس ترمیم کے بعد ملک میں کسان اور عام عوام کے لئے یہ انتہائی نقصاندہ ثابت ہوگا۔اس بل میں جو ترمیم پیش کی گئی ہے اس کے مطابق اب آئندہ نجی کمپنیوں کو بجلی بنانے اور بیچنے کی اجازت ہوگی،جس سے آنے والے دنوں میں سرکاری کمپنیوں کو گھاٹا ہوگا،دوسری طرف حکومت جو کسانوں کو مفت میں اور کچھ جگہ کم داموں میں بجلی فراہم کر رہی ہے وہ بند ہوجائے گی،اسی طرح نجی کمپنیاں من مانی بجلی کے دام بڑھائیں گے جس کے نتیجے میں عام عوام کو اس کا بوج سہنا پڑے گا۔لہذا ویلفیر پارٹی اس ترمیم کی سخت مخالفت کر تی ہے۔